رمضان المبارک میں صحت کا خاص خیال رکھنا کیوں ضروری ہے؟

کیا آپ بھی رمضان المبارک میں اپنی صحت کا خیال رکھنا چھوڑ دیتے ہیں محض اس لیے کہ دن بھر نہ کھانے سے آپ موٹاپے یا دیگر بیماریوں کا شکار نہیں ہوں گے ؟ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دنیا بھر کے مسلمان روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا زیادہ تر وقت عبادت میں گزارتے ہیں۔ دوسری جانب اسی ماہ میں سحر و افطار کا اہتمام بھی عروج پر ہوتا ہے، لیکن یاد رکھیں کہ افطار میں زیادہ مقدار میں کھانا کھانے یا غیر متوازن غزا کا استعمال پیٹ کی خرابی اور آنتوں میں مسائل پیدا کر سکتا ہے، جس سے آپ روزہ رکھنے سے بھی محروم رہ سکتے ہیں۔ اگر آپ افطار میں ضرورت سے زیادہ کھائیں گے تو وزن میں اضافہ، موٹاپہ کے علاوہ ذیابیطس اور دل کی بیماری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

افطار میں ضرورت سے زیادہ کھانے سے کیا ہو گا ؟
رمضان المبارک میں زیادہ کھانے کی وجہ سے سب سے زیادہ عام بیماریوں میں سے ایک پیٹ کا درد ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب لوگ روزہ کھولنے کے فوراً بعد فرائی پکوان کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ کھانے میں کاربوہائیڈریٹس زیادہ مقدار موٹاپے کا شکار کرتی ہے جو پیٹ کے درد کا باعث بنتی ہے۔ اس طرح کی کسی بھی بیماری سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ افطار روزہ کھولنے کے بعد اس بات کو یقینی بنائیں کہ پہلے کچھ ہلکا کھا لیں جیسے فروٹ چارٹ اور پھل۔

صحت مند کیسے رہا جائے؟
ورزش لازمی کریں 
رمضان کے مہینے کا قطعاً یہ مقصد نہیں کہ انسان اپنی زندگی میں سے ورزش کو بالکل جگہ نہ دے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ رمضان میں ہلکی ورزش کرنی چاہیے مگر ورزش کو اپنا معمول ضرور بنانا چاہیے۔ تاہم اس بات کا خیال رکھیں کہ ہر قسم کی ورزش نہ کریں بلکہ مخصوص قسم کی ورزش کریں یعنی کم شدت والی ورزش کریں کم شدت والی ورزش کا مطلب ہے کہ کندھوں اور جوڑوں کی ورزش یا اپنے پیٹ کے پٹھوں کو مضبوط کرنے کی ورزش کریں۔ کم شدت والی ورزش اس وقت بھی بہترین رہتی ہے جب آپ کی کوئی روٹین نہ ہو اور آپ صرف اپنی فٹنس بہتر کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

پانی کی کمی نہ ہونے دیں
عام طور پر رمضان اگر گرمی کے موسم میں ہوں. تو سب سے زیادہ جو چیز روزہ لگنے کا باعث ہوتی ہے وہ پانی کی کمی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزہ کھولتے ہی لوگ پیٹ کو پانی کی ٹنکی کی طرح بھرنا شروع کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں طبیعت میں بوجھل پن آتا ہے. اور انسان افطار کے بعد کسی قسم کی عبادت کے قابل نہیں رہتا ہے۔ انسان کو چوبیس گھنٹوں میں آٹھ سے دس گلاس پانی کی ضرورت ہوتی ہے. جو اس کے جسم کے نظام کو درست رکھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس حساب سے افطار کے وقت 2 گلاس پانی پی لینا کافی ہوتا ہے، اس کے بعد ہر گھنٹے ایک گلاس پانی پی کر جسم کو پانی کی کمی سے بچایا جا سکتا ہے۔

چکنائی کا زیادہ استعمال نہ کریں
رمضان کے پہلے عشرے میں سبھی کو افطار میں فرائی پکوان کھانے کا شوق ہوتا ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ چکنائی کا استعمال بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے
کوشش کرنی چاہیے کہ چینی اور چربی اور چکنائی والی خوراک سے پرہیز کیا جائے، کیونکہ یہ کھانے نہ صرف انسانی میٹابولیزم پر منفی اثرات ڈالتے ہیں، بلکہ اس سے سر میں درد ہو سکتا ہے اور انسان تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ روزہ کھولنے کے لیے کھجور اور دہی، پانی اور تازہ پھلوں کا رس استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے بعد دس منٹ تک انتظار کرنے کے بعد ایسی خوراک لینی چاہیے جس میں معدنیات زیادہ ہوں۔

بشکریہ ڈان نیوز

مسجد الحرام میں دنیا کا سب سے بڑا کولنگ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں کولنگ سسٹم جس کی دیکھ بھال و انتظام مسجد الحرام و مسجد نبوی امور کی جنرل اتھارٹی کرتی ہے، دنیا کے بڑے نظام میں سے ایک ہے۔ یہ سسٹم ایک لاکھ 55 ہزار ٹن تک ٹھنڈک فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔  جنرل اتھارٹی کا کہنا ہے اس کا انتظام دو مرکزی سٹیشنوں کدی اور الشامیہ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ الشامیہ سٹیشن کے ذریعے کولنگ گنجائش ایک لاکھ 20 ہزار ٹن ہے اور یہ مسجد الحرام سے 900 میٹر کی مسافت پر ہے۔ جبکہ دوسرا سٹیشن کدی کا ہے جہاں کولنگ گنجائش 35 ہزار ٹن اور یہ 500 میٹر دوری پر ہے۔ سرکاری خبررساں ادارے ’ایس پی اے‘ کے مطابق جدید کولنگ سسٹم نہ صرف لاکھوں زائرین کو آرام فراہم کرتا ہے بلکہ اسے دن میں نو بار صاف کر کے ہوا کے معیار کو بھی یقینی بناتا ہے۔ 

الٹرا وائلٹ شعاعوں کا استعمال کرتے ہوئے ہوا کو جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے۔ جس سے صفائی کی شرح 100 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ عمل مسجد کے مختلف حصوں میں جراثیم سے پاک ماحول کو برقرار رکھنے میں اہم ہے۔ اس نظام کو ٹیکنیکل، آپریشنل، مینٹیننس اینڈ فیسیلیٹی مینجمنٹ افیئرز ایجنسی کے ذریعے ہینڈل کیا جاتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ الیکڑو مکینیکل سسٹم بہتر طریقے سے کام کریں۔ تکنیکی ماہرین مسجد الحرام کے مختلف حصوں میں ہوا کو متوازن کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔ سیکیورٹی اور حفاظتی ہدایات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ مسجد الحرام میں ہوا کی تقسیم کو زائرین کی تعداد کے بنیاد پر ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ درجہ حرارت سال بھر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اوسطا 20 سے 24 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت برقرار رکھا جاتا ہے۔

بشکریہ اردو نیوز 

نعمتِ خداوندی اور انسانی رویّے

حضرت صہیبؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’ بندۂ مومن کا بھی عجیب حال ہے کہ اس کے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے اور یہ بات کسی کو حاصل نہیں سوائے اس بندۂ مومن کے کہ اگر اسے کوئی تکلیف بھی پہنچی تو اسے نے شکر کیا تو اس کے لیے اس میں بھی ثواب ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچا اور اس نے صبر کیا تو اس کے لیے اس میں بھی ثواب ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم)
شُکر کی تعریف: شُکر کے لغوی معنی نعمت دینے والے کی نعمت کا اقرارِ کرنا اور کسی کی عنایت یا نوازش کے سلسلے میں اس کا احسان ماننے کے ہیں۔ اصطلاحی طور پر ﷲ کے شُکر سے مراد ﷲ کی بے پایاں رحمت، شفقت، ربوبیت، رزاقی اور دیگر احسانات کے بدلے میں دل سے اٹھنے والی کیفیت و جذبے کا نام ہے۔ انسان جب شعور کی نگاہ سے انفس و آفاق کا جائزہ لیتا ہے تو اسے اپنا وجود، اپنی زندگی اور اس کا ارتقاء ایک معجزہ نظر آتا ہے۔ وہ اپنے اندر بھوک، پیاس، تھکاوٹ اور جنس کا تقاضا پاتا ہے تو خارج میں اسے ان تقاضوں کے لیے غذا، پانی، نیند اور جوڑے کی شکل میں اسباب کو دست یاب دیکھتا ہے۔

وہ دیکھتا ہے کہ ساری کائنات اس کی خدمت میں لگی ہوئی ہے تاکہ اس کی زندگی کو ممکن اور مستحکم بنا سکے۔ چناں چہ وہ ان اسباب کے فراہم کرنے والے خدا کے احسانوں کو پہچانتا اور دل سے اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ یہی ابتدائی مفہوم ہے ﷲ کے شکر کا۔ پھر جوں جوں یہ معرفت ارتقاء پذیر ہوتی ہے تو اس تشکر کی گہرائی اور صورتوں میں ارتقاء ہوتا چلا جاتا ہے۔ اجتماعی نعمتوں پر شُکر کی وجوہات: اجتماعی شکر کرنے کی پہلی وجہ ﷲ تعالیٰ کی بے پایاں شفقت اور رحمت ہے جو اس نے انسان کے ساتھ کی ہے۔ صفات رحم و کرم ﷲ تعالیٰ کا مخلوق کے ساتھ انتہائی مہربانی، شفقت، رحم، نرم دلی اور سخاوت اور بخشش کا اظہار ہے۔ ﷲ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا، ان میں تقاضے پیدا کیے اور پھر ان تقاضوں کو انتہائی خوبی کے ساتھ پورا کرتے ہوئے اپنی رحمت، لطف اور کرم نوازی کا اظہار کیا۔ چناں چہ کبھی وہ مخلوق پر محبت اور شفقت نچھاور کرتا نظر آتا ہے تو کبھی مخلوق کی بات سنتا، ان کی غلطیوں پر تحمل سے پیش آتا، ان کی خطاؤں سے درگزر کرتا، نیکو کاروں کی قدر دانی کرتا اور اپنی حکمت کے تحت انہیں بے تحاشا نوازتا دکھائی دیتا ہے۔

یہی نہیں بل کہ ایک بندہ جب مشکل میں گرفتار ہوتا تو وہ اس کے لیے سلامتی بن جاتا، اسے اپنی پناہ میں لے لیتا، اس کی مشکلات کے سامنے ڈھال بن جاتا، آگے بڑھ کر اس کی مدد کرتا اور گھٹا گھوپ اندھیروں میں ہدایت کا نور بن جاتا ہے۔ یہی لطف و کرم ﷲ کا پہلا تعارف ہے جو انسان کو اس کے سامنے جھکاتا، اس کا احسان مند بناتا اور اسے شُکر پر مجبور کرتا ہے۔ اجتماعی شکر کی دوسری وجہ خدا کی صفت ربوبیت ہے۔ ﷲ تعالیٰ کی ربوبیت کا مفہوم یہ ہے کہ ﷲ مخلوقات کو پیدا کر کے ان سے غافل نہیں ہو گیا۔ بلکہ دن رات ان کو ہر قسم کی سہولت فراہم کر رہا ہے ۔ وہ زندگی کے لیے آکسیجن، حرارت کے لیے سورج کی روشنی، نشو و نما کے لیے سازگار ماحول، جسمانی نمو کے لیے غذا اور ذائقے کی تسکین کے لیے انواع و اقسام کے میوے اور پھل بنا کر اپنی ربوبیت و رزاقیت کا اظہار کر رہا ہے۔ اسی طرح وہ ایک نومولود کو ماں کے پیٹ میں ایک سازگار ماحول اور رزق فراہم کرتا، دنیا میں آتے ہی ماں کی گود میں اس کی نشو و نما کا بندوبست کرتا اور دنیا کے ماحول کو اس کی خدمت میں لگا دیتا ہے۔

انفرادی نعمتوں پر شُکر کی وجوہات: اجتماعی شکر کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر شکر کرنے کی بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، کیوں کہ ﷲ تعالیٰ ہر بندے کے ساتھ انفرادی معاملہ کرتے اور خاص طور پر اسے اپنی نعمتوں سے نوازتے ہیں تاکہ اسے شکر کے امتحان میں ڈال کر آزمائیں۔ انفرادی طور پر شکر کرنے کے درج ذیل مواقع یا وجوہات ہو سکتی ہیں :
٭ مال اور جائیداد میں فراوانی پر شکر ۔ یعنی نقدی، بنک بیلنس، مکان، جائیداد، مویشی اور نعمتوں کی دیگر صورتوں میں فراوانی پر ﷲ کا شکر ادا کرنا۔
٭ اولاد میں کثرت یا حسب توقع اولاد کے حصول میں کامیابی پر ﷲ کا شکر گزار ہونا۔
٭ بہتر اور اعلی میعار زندگی پر تشکر۔ یعنی ایسی زندگی جس میں مادی و روحانی دونوں پہلوؤں سے سکون حاصل ہو۔
٭ صحت کی بہتری پر تشکر۔ صحت میں تمام اعضاء کی سلامتی، بیماری سے حفاظت، یا بیماری سے صحت یابی، کسی بھی جسمانی معذوری سے مبراء ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

٭ ماں باپ کا سایہ سر پر موجود ہونے پر ﷲ کا شکر گزار ہونا۔
٭ تعلیم میں اضافے پر شکر گزار ہونا۔
٭ غیر معمولی ظاہری حسن پر تشکر کرنا۔
٭ اچھے حافظہ اور عقل پر شکر گزار ہونا۔
٭ شہرت اور عزت حاصل ہو نے پر تشکر کرنا۔
٭ کسی مصیبت یا بیماری سے نجات پانے پر شکر گزار ہونا۔
٭ کسی گناہ سے بچنے پر یا نیکی کرنے پر شکر کا اظہار کرنا۔
٭ نعمت کا کسی اور صورت میں ملنے پر شکر کرنا۔
شکر کے امتحان کی آفات: شکر کے امتحان سے مراد یہ ہے کہ ﷲ نے ایک شخص کے لیے آسانیاں اور نعمتیں رکھی ہوئی ہیں اور وہ بہ حیثیت مجموعی جسمانی، روحانی، نفسیاتی یا دیگر تکالیف سے محفوظ ہے۔
شکر کے امتحان میں درج ذیل مشکلات و آفات پیش آسکتی ہیں: نعمت کو آزمائش کے بہ جائے خدا کا انعام سمجھ لینا: اگر کسی شخص پر نعمتوں کی بارش ہو رہی ہو تو اس کا نفسیاتی اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ ان نعمتوں کو خدا کی رضا سمجھ بیٹھتا ہے اور وہ اس مغالطے میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ﷲ اس سے راضی ہے۔ حالاں کہ نعمتوں کا اس دنیا میں عطا کیا جانا آزمائش کے اصول پر ہے ناکہ خدا کی رضا اور ناراضی پر۔

تکبر: خدا کی نعمتیں اگر تواتر کے ساتھ ملتی رہیں تو انسان عام طور پر خود کو دوسروں سے برتر محسوس کرتا ہے۔ یہ برتری کا احساس ایک حد سے بڑھ جائے تو تکبّر میں تبدیل ہو جاتا ہے، حالاںکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نعمتیں محض آزمائش کے لیے دی گئی ہیں۔ نعمتوں کو حق سمجھ لینا: شکر کے امتحان کی ایک اور آفت یہ ہے کہ انسان ملنے والی نعمتوں کو اپنا حق سمجھ لیتا ہے کہ یہ نعمتیں تو اسے ملنا ہی چاہیے تھیں۔ جب یہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے ان نعمتوں کو انسان ایک معمول کی شے سمجھ لیتا ہے ۔ یوں وہ ان کا عادی ہو جاتا اور شکر کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ نعمتوں کو معمولی و حقیر جاننا: جب انسان تواتر کے ساتھ کسی نعمت کو استعمال کرتا ہے تو وہ انہیں معمولی اور حقیر سمجھنے لگتا ہے بلکہ وہ انہیں نعمت کی حیثیت سے قبول کرنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھتا ہے۔ مثال کے طور پر آنکھیں بڑی نعمت ہیں۔ لیکن ان آنکھوں کا استعمال دن اور رات تواتر ہونے کی بنا پر انسان بینائی کی نعمت کو سراہنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کی جانب ایک نگاہ ڈالیں جو ان انمول نعمتوں سے محروم ہیں۔ اس کے لیے سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

شکر کرنے کے طریقے: شکر کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ ایک شخص اپنے ذوق، حالات اور ماحول کے مطابق ان مختلف طریقوں کا انتخاب کر سکتا ہے۔ زبان سے شکر: شکر کرنے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے ﷲ کا شکر ادا کیا جائے۔ جب دل میں کسی نعمت کی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے تو اس کا اظہار سب سے پہلے زبان ہی سے ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ عربی میں ہی شکر ادا کیا جائے۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ اپنے الفاظ میں شکر گزاری کی کیفیت کو بیان کر دیا جائے۔ البتہ کبھی کبھی اگر پیغمبر کائنات ﷺ کی مانگی ہوئی شکر گزاری کی دعاؤں پر بھی غور کر لیا جائے تو شکر گزاری کے کئی مضامین ذہن میں آجائیں گے۔ نماز کے ذریعے شکر: ﷲ کی نعمتوں کی شکر گزاری کا ایک اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ نعمت کے ملنے پر دو رکعت نماز شکرانے کی ادا کی جائے۔ اس میں طویل قیام اور لمبے سجدے کیے جائیں اور خدا کا شکر ادا کیا جائے۔ روزے یا انفاق کے ذریعے شکر: شکر گزاری کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ روزہ رکھا جائے یا ﷲ کی راہ میں مال خرچ کیا جائے۔

عمل کو خدا کی مرضی کے تابع کرنے کے ذریعے شکر: سب سے مشکل لیکن مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اپنی مرضی کو خدا کی مرضی کے تابع کرنے کی کوشش کی جائے، اپنی خواہش کو خدا کے حکم کے تحت فنا کیا جائے۔ یہ شکر گزار ی کی حقیقی صور ت یہ ہے کہ اپنے منعم کے احسانات پر ممنون ہوتے ہوئے اس کی کامل اطاعت کی جائے۔ بندوں کی مدد کے ذریعے شکر: ﷲ کے بندوں کی مدد کر کے بھی ﷲ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر گزاری اختیار کی جاسکتی ہے۔ ناشکری سے بچنے کی تدابیر: ناشکری سے بچنے کے لیے درج ذیل ہدایات کو غور سے پڑھیں۔ ٭ کائنات پر غور و فکر کر کے ﷲ کے احسانات تلاش کرِیں اور اس پر ﷲ کا شکر ادا کریں۔

٭ اپنے نفسیاتی، مادی اور دیگر تقاضوں اور کم زوریوں پر غور کریں اور ان کی تکمیل پر ﷲ کے شکر گزار رہیں۔ ٭ جب کوئی غیر معمولی نعمت (جیسے بیماری کے بعد صحت وغیرہ) ملے تو اس پر ﷲ کا شکر ادا کریں اور وقت گزرنے کے ساتھ انہیں اپنی یاد میں تازہ کریں اور ﷲ کے احسان مند ہوں۔ ٭ ہمیشہ نعمتوں کا موازنہ کرتے وقت اپنے سے نیچے والوں پر غور کریں تاکہ ﷲ کے شکر کی عادت پیدا ہو۔ ٭ چوبیس گھنٹوں میں سے دس پندرہ منٹ خدا کی نعمتوں اور احسانات پر غور کرنے کے لیے نکالیں۔ ﷲ تعالیٰ ہمیں بھی صحیح شکر ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین 

مولانا رضوان اللہ  

نعمتوں کی ناقدری

رب العالمین کا فرمان ہے کہ ’’قتل الانسان ما اکفرہ‘‘ ترجمہ: ’’اللہ کی مار انسان پر، کیسا ناشکرا ہے‘‘ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں بے شمار نعمتوں کے مالک ہیں اور اکثر نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سوں کے تو ہم لائق ہی نہیں ہیں، لیکن انسان میں بہت بڑی کمزوری پائی جاتی ہے جسے ’’ناشکری‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے انسان بہت سی حاصل شدہ نعمتوں کی طرف بھی توجہ نہیں کرتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان حاصل شدہ نعمتوں میں بہت سی ایسی ہیں جن کے لیے انسان اپنی زندگی کے ایک دور تک ہمیشہ آرزو مند رہتا ہے، گڑگڑا کر دعائیں کرتا ہے، خیالات، سوچ، فکر، امنگ، چاہت اور احساس سب اس نعمت کے حصول کے گرد گھومتے تھے۔ جان بوجھ کر ایسا سوچتا تھا کہ اس نعمت کے حاصل ہونے کے بعد کا منظر کیسا ہو گا، وہ کیسا وقت ہو گا اور لوگ نجانے کیا کچھ کہیں گے، بس زندگی کا نقشہ ہی بدل جائے گا، پھر بس کچھ چاہنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔ کاش یہ ہو جائے، کاش یہ مل جائے، کاش یہ اب مل ہی جائے۔

لیکن پھر وہ وقت زندگی میں آہی جاتا ہے اور دیر سویر وہ نعمت مل ہی جاتی ہے اور اس ناشکرے کمزور انسان کی خواہش، تمنا، آرزو پوری ہو جاتی ہے۔ قدرت بھی یہ منظر دیکھنے کو آجاتی ہے کہ دیکھیں اب اس کا ردعمل کیا آتا ہے، اب یقیناً یہ چین و سکون اور اطمینان سے رہ رہا ہو گا، اب تو یہ شکر کے گیت گاتا ہو گا لیکن انسان قرآنی گواہی کو سچا ثابت کرتے ہوئے اس موقع پر پھر سے افسردہ، حیران و پریشان خیالوں میں غرق ہوتا نظر آتا ہے۔ اور اسے جھنجھوڑ کر جب پوچھا جاتا ہے تو وہ کسی اور نعمت کے حاصل کرنے کی تمنا میں مگن ہو کر اپنی اصلیت دکھا دیتا ہے۔ سورۃ عادیات میں رب کا فرمان ہے ’’ان الانسان لربہ لکنود‘‘ ترجمہ: ’’ بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے‘‘۔ اس آیت کی تفسیر میں لفظ ’’کنود‘‘‘ سے مراد یہی انسان ہے جو حاصل نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور لاحاصل نعمتوں کی یاد میں زندگی گزارتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ کسی ناقدرے کو کتنا ہی قیمتی تحفہ کیوں نہ دیا جائے وہ اس کی نظر میں بے قیمت ہی رہتا ہے۔ بالکل یہی رویہ انسان کا ہے۔ یہ رب کی بہت سی نعمتوں کے لائق ہی نہیں ہے، لیکن رب العالمین اپنے فضل کی بارش کرتا رہتا ہے۔ اگر یہ انسان قدردان ہوتا تو فضلِ الٰہی کے ایک ایک لمحے کے بدل اپنا سب کچھ وار دیتا۔ یہ اس کی ناشکری طبیعت ہی ہے جو اسے فضل عظیم کرنے والی ذات کی قدر سے روکے ہوئے ہے۔ حاصل کی ناقدری اور لاحاصل کی تمنا انسان کو بہت بڑے دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ وہ غوروفکر کرنا گوارا نہیں کرتا کہ اس کے پاس اس وقت کیا کچھ نعمتیں موجود ہیں، وہ اپنی پرستش میں ایسا گم ہے کہ اسے کوئی اور نظر نہیں آتا۔ ذرا شکر کی آنکھ کھلے تو یہ دیکھے کتنے لوگ بے اولاد ہیں لیکن یہ صاحب اولاد ہے۔ کتنے بے روزگار ہیں لیکن یہ برسر روزگار ہے۔ کتنے بے گھر ہیں لیکن یہ ایک چھت تلے زندگی گزار رہا ہے۔ کتنے معذور ہیں اور یہ دنیا کے پیچھے دوڑ دوڑ کر تھکتا نہیں۔ کتنے ایسے ہیں جو آنکھ، بال، دل، گردہ، گلا، مثانہ، معدہ، کینسر اور کئی خطرناک اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا ہیں لیکن یہ صحت کی دولت لیے گھوم پھر رہا ہے۔ 

کتنے ایسے ہیں کہ مرچکے لیکن یہ اب تک قیمتی سانسوں کا مالک ہے اور اب بھی شکر کر کے اپنے لیے کیا سے کیا نہیں کر سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی صحبت، اپنی سوچ اور اپنے رویے کا ازسرنو جائزہ لیں اور ذرا سوچیں کہ کیا کچھ ہے میرے پاس جو بہت سوں کے پاس نہیں ہے۔ اگر انسان اس تجربے سے کامیاب گزرا تو زندگی کا مزہ ہی دوبالا ہو جائے اور بہت سے لایعنی مسائل اس تحریر کے مکمل پڑھنے سے پہلے ہی دم توڑ دیں گے۔

مولانا عبدالمتین  

کہیں میں متکبر تو نہیں ہو گیا ؟

یہ سوال ہر مسلمان کو خود سے کرنا چاہیے، کیونکہ تکبر اللہ اور رسول ﷺ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔ اگر میرے اندر یہ علامات ہیں، تو مجھے فوراً اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔

1. کیا میں دوسروں کی اہمیت کو کم سمجھتا ہوں؟
اگر میرا رویہ ایسا ہے کہ میں دوسرے لوگوں کے جذبات اور خیالات کو اہمیت نہیں دیتا، یا ہمیشہ اپنے آپ کو ان سے بہتر سمجھتا ہوں، تو شاید یہ تکبر کی نشانی ہو۔ اگر میں لوگوں کی بات سننے میں دلچسپی نہیں رکھتا اور صرف اپنی رائے کو ہی صحیح سمجھتا ہوں، تو یہ سوچنا ضروری ہے کہ کہیں تکبر تو نہیں پیدا ہو گیا۔

2. کیا میں مشورے اور تنقید کو رد کرتا ہوں؟
کیا مجھے دوسروں کے مشورے یا تنقید سننا ناگوار محسوس ہوتا ہے؟ کیا میں ہمیشہ اپنی سوچ کو ہی درست سمجھتا ہوں؟ اگر میں ہر وقت صرف اپنی بات پر اصرار کرتا ہوں اور دوسروں کے مشوروں یا تنقید کو نظرانداز کرتا ہوں، تو یہ بھی ایک نشانی ہو سکتی ہے کہ میرے دل میں تکبر کا شائبہ ہے۔

3. کیا میں اچھے اعمال پر فخر محسوس کرتا ہوں؟
کیا میں اپنے اچھے کاموں پر یہ سوچتا ہوں کہ “میں بہت نیک ہوں” یا “میری عبادت سب سے اعلیٰ ہے”؟ عبادت اور نیکی کا اصل مقصد اللہ کی خوشنودی ہے، نہ کہ اپنے اوپر فخر کرنا۔ اگر میں اپنے نیک اعمال پر فخر محسوس کرنے لگتا ہوں، تو مجھے اس فخر اور غرور کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ یہ بھی تکبر کی علامت ہے۔

4. کیا میں دوسروں کی غلطیوں پر زور دیتا ہوں؟
اگر میں دوسروں کی غلطیوں پر حد سے زیادہ توجہ دیتا ہوں اور ان کی کمزوریوں کو نمایاں کر کے اُنہیں نیچا دکھاتا ہوں، تو یہ میرے دل میں تکبر کی ایک علامت ہو سکتی ہے۔ ہمیں دوسروں کو معاف کرنے اور ان کے لیے رحمت کا رویہ اپنانا چاہیے، نہ کہ اُن کی خطاؤں کو بڑھاوا دینا۔

5. کیا میرے اندر انکساری اور عاجزی کی کمی ہے؟
کیا میں دوسروں کے درمیان اپنی اہمیت اور مرتبے کو بہت زیادہ بڑھاوا دیتا ہوں؟ کیا میں ہر وقت اپنی تعریف سننا پسند کرتا ہوں اور اپنے آپ کو لوگوں سے بلند تر سمجھتا ہوں؟ اگر ہاں، تو یہ بھی تکبر کی علامت ہو سکتی ہے، کیونکہ اصل خوبی تو انکساری اور عاجزی میں ہے۔

محمد ادریس لاشاری